Breaking News

Breaking News English needs Part Time campus Reporters.Please
Prof. Tariq Mansoor is presently serving as the Vice-Chancellor, Aligarh Muslim University, Aligarh. Previously he has also served as Principal, J.N. Medical College, Chief Medical Superintendent, J.N. Medical College Hospital and Chairman, Department of Surgery. He is also the member of Medical Council of India since March 2015 for a period of four years. He is product of the first batch of prestigious Our Lady of Fatima Higher Secondary School, Aligarh. During his school days he has served as House Captain as well as School Captain. He did his MBBS and MS in General Surgery from Jawaharlal Nehru Medical College, AMU, Aligarh. A surgeon by profession with special interest in Breast and Thyroid Diseases, Prof. Tariq Mansoor has 33 years of Teaching and 35 years of Clinical experience. He has 90 publications to his credit and has guided 49 Postgraduate Medical Students for their Thesis as Supervisor / Co-Supervisor

دہلی کے ساحل کی داستان گوئی نے احمد آباد کا دل چھو لیا

دہلی کے ساحل کی داستان گوئی نے
احمد آباد کا دل چھو لیا

خالد مصطفی
نئی دہلی 13 دسمبر: سید ساحل آغا نے جب گجرات میں احمد آباد کے جی۔ایم۔ڈی۔جی آڈیٹوریم میں "داستان گوئی" بیان کی تو وہاں موجود قریب 4000 لوگوں کی خوب واہ واہی لوٹی، ساحل نے یہ داستان ہندوستان کے صدر جمہویہ رہے اے پی جے عبدالکلام کی زندگی کے ایک مو ضوع پر پڑھی تھی۔ساحل نے بتایا جس طرح ایک وقت تھا جب ان کی بہن نے ان کی تعلیم کے لئے اپنا زیور تک فروخت کر دیا تھا اور وہ دن جو گزرے اس خاندان پر جب یہ بیان کرکے بتایا تو محفل میں ایک عجیب سے خاموشی سی چھا گئی سب کی آنکھیں نم ہو گئی۔کلام کی زندگی کا یہ طور کم ہی لوگوں کو معلوم تھا۔لوگوں کوکلام صاحب کی زندگی کے اس سفر سے رو برو کرایا گیا جو لاکھوں لوگوں کے لئے سیکھنے کا سبب ہو سکتا ہے۔اس داستان گوئی کا لوگوں پر اتنا اثر ہوا کی بہت سے لوگ اسٹیج پرآ کررو پڑے اور اپنی زندگی میں ان لمہو ں کو تلاش کرنے لگے جو داستان ساحل نے بیان کی تھی۔ساحل کی جب داستان گوئی پوری ہوئی تو لوگوں نے ایک اور پڑھنے کی گزارش کی تب ساحل نے ایک اور داستان پڑھی جس کو "داستان ہیرو جی کے" نام سے جانا جاتا ہے

No comments:

Post a Comment