Breaking News

Breaking News English

Urgent::www.AMUNetwork.com needs Part Time campus Reporters.Please Contact:-deskamunetwork@gmail.com
Prof. Tariq Mansoor is presently serving as the Vice-Chancellor, Aligarh Muslim University, Aligarh. Previously he has also served as Principal, J.N. Medical College, Chief Medical Superintendent, J.N. Medical College Hospital and Chairman, Department of Surgery. He is also the member of Medical Council of India since March 2015 for a period of four years. He is product of the first batch of prestigious Our Lady of Fatima Higher Secondary School, Aligarh. During his school days he has served as House Captain as well as School Captain. He did his MBBS and MS in General Surgery from Jawaharlal Nehru Medical College, AMU, Aligarh. A surgeon by profession with special interest in Breast and Thyroid Diseases, Prof. Tariq Mansoor has 33 years of Teaching and 35 years of Clinical experience. He has 90 publications to his credit and has guided 49 Postgraduate Medical Students for their Thesis as Supervisor / Co-Supervisor

: رقعات و کلام غالب کی روشنی میں، ایک تاریخی تجزیہ


شعبہ فارسی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جانب سے آج شعبہ کی لائبریری میں ایک توسیعی خطبہ بعنوان” 1857: رقعات و کلام غالب کی روشنی میں، ایک تاریخی تجزیہ ” منعقد کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز یاسر عباس غازی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ اس پروگرام کے مقرر خاص پروفیسر عزیز الدین حسین، شعبہ تاریخ و ثقافت، جامعہ ملیہ اسلامیہ تھے۔اور مہمان خصوصی کے طور پرڈاکٹرشمع زیدی، ایڈیٹر ، بیسویں صدی نے شرکت کی۔ جبکہ صدارت کے فرائض صدر فارسی پروفیسر عراق رضا زیدی نے انجام دیے۔
پروفیسر عزیز الدین حسین نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ کل یعنی ۱۱ مئی 2016 کو تحریک آزادی کے159 سال مکمل ہو رہے ہیں۔1857 کی لڑائی ہماری آزادی کی پہلی لڑائی ہے۔ اس کا زیادہ تر مواد فارسی اور اردو میں ہے۔ جو نیشنل آرکائیوز آف انڈیا، یو۔پی۔اسٹیٹ آرکائیوزلکھنئو  وغیرہ میں موجود ہیں۔ ہم نے 2007 ءمیں 1857 ءکی 150ویں سالگرہ منائی لیکن دستاویزات کے علاوہ اس دور کے شعراءکے کلام میں اور رقعات میں اہم معلومات ملتی ہیں۔ مرزا غالب اسی عہد سے تعلق رکھتے تھے ان کے رقعات اور کلام میں 1857ءسے متعلق بہت سی معلومات ملتی ہیں۔ شمع زیدی نے کہا کہ ابھی 1857 کے بہت سے راز ظاہر ہونا باقی ہےں جو فارسی اور اردو زبان کے ادب میںپنہاں ہیں۔ 1857 ہماری بربادی اور ہمارے بزرگوں کے قتل عام کے ساتھ غلامی وطن کی داستان ہے۔ جو نہایت عبرتناک ہے۔ قابل مبارکبادہے شعبہ فارسی جس نے فارسی ادب کے حوالے سے 10 مئی کو جو 1857 کا یوم آغاز ہے اس لکچر کا اہتمام کیا۔
پروفیسر عراق رضا زیدی نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ 1857کہنے کو تو انگریزوں کی فتح کا سال ہے لیکن حقیقت میں یہ جنگ ہندوستانی آزادی کے متوالوں اور ہندوستانی انگریزوں کے غلاموں کے درمیان ہوئی تھی۔ جو راجہ بلبھ گڑھ جیسے آزادی کے فارسی خطوط میں دیکھا جا سکتا ہے۔آخر میں پروفیسرعبد الحلیم نے تمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا۔
اس پروگرام میں خاص طور پر پروفیسر نثار الحق، پروفیسر حبیب اللہ، پروفیسر ایس۔ ایم۔ اختر، پروفیسرشہزاد انجم، پروفیسرمحمد اسحاق،پروفیسرعبد الحلیم، ڈاکٹرعمران احمد عندلیب، ڈاکٹرمصور رحمان،ڈاکٹرسرور الھدی، ڈاکٹراورنگ زیب عالم، ڈاکٹرناصررضا، ڈاکٹرحائفہ شاکری،ڈاکٹر مفتی مشتاق تجاروی، ڈاکٹر سیف اللہ سیفی،ڈاکٹرسید کلیم اصغر، ڈاکٹرمحضر رضا، ڈاکٹر سمیع احمد، ڈاکٹر وہاج الدین اشرف، ڈاکٹر فضل الرحمان تمنا، ڈاکٹر حسین الزمان، عبد الکریم،تصور مہدی، دیپانشو، الطاف مہدی، ذیشان حیدر، محمد نقی وغیرہ کے علاوہ دیگر کثیر تعداد میں اسکالرس اور طلباءنے شرکت کی۔

No comments:

Post a Comment