Breaking News

Breaking News English

Urgent::www.AMUNetwork.com needs Part Time campus Reporters.Please Contact:-deskamunetwork@gmail.com
Prof. Tariq Mansoor is presently serving as the Vice-Chancellor, Aligarh Muslim University, Aligarh. Previously he has also served as Principal, J.N. Medical College, Chief Medical Superintendent, J.N. Medical College Hospital and Chairman, Department of Surgery. He is also the member of Medical Council of India since March 2015 for a period of four years. He is product of the first batch of prestigious Our Lady of Fatima Higher Secondary School, Aligarh. During his school days he has served as House Captain as well as School Captain. He did his MBBS and MS in General Surgery from Jawaharlal Nehru Medical College, AMU, Aligarh. A surgeon by profession with special interest in Breast and Thyroid Diseases, Prof. Tariq Mansoor has 33 years of Teaching and 35 years of Clinical experience. He has 90 publications to his credit and has guided 49 Postgraduate Medical Students for their Thesis as Supervisor / Co-Supervisor

مولانا محمد عبدالرحیم قریشی کا انتقال

حیدرآباد۔۴۱/ جنوری۔یہ خبر انتہائی رنج والم کیساتھ پڑھی جائیگی کہ مولانا محمد عبدالرحیم قریشی صاحب صدر کل ہند مجلس تعمیرملت و اسسٹنٹ جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لابورڈ کا آج صبح ساڑھے چار بجے حیدرآباد کے کیرہاسپٹل میں انتقال ہوگیا۔ مرحوم چند دنوں سے لنگس انفکیشن کی وجہ سے ہسپتال میں شریک تھے اور زیر علاج تھے۔ مرحوم کی طبیعت کل بہتر ہوگئی تھی اور ڈسچارج بھی کردیا گیا تھا ابھی ہسپتال کے احاطہ ہی میں تھے کہ طبیعت اچانک پھر بگڑ گئی اور فوری آئی سی یو میں داخل کردیا گیا اور آج صبح ومالک حقیقی سے ملے۔ وہ (۲۸) سال کے تھے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چھ صاحبزادے اور پانچ صاحبزادیا ں ہیں۔ مولانا محمد عبدالرحیم قریشی کے انتقال کی وجہہ سے ملت اسلامیہ کا بہت بڑا انقصان ہوا ہے اور ان کی وجہہ سے جو خلا ء پیدا ہوا ہے۔ اسکی تلافی مشکل ہی سے نظر آتی ہے۔ مرحوم ملک بلکہ بیروں ملک کی معروف شخصیت تھی وہ کل ہند مجلس تعمیرملت کے ابتدائی کارکنوں میں سے تھے اور سید خلیل اللہ حسینی مرحوم بانی تنظیم کے انتقال کے بعد صدر مقرر ہوئے تھے۔ وہ مسلم پرسنل لابورڈ میں ایک اہم ستوں کے طورپر خدمات انجام دے رہے تھے بلکہ وہ بورڈ کے ریڑھ کی ہڈی کے مماثل تھے۔ ملت پر ان کے عظیم احسانات ہیں جن میں ان کی تصنیف شدہ کتاب جو بابری مسجد کی حقیقت بیان کرتی ہے ”ایودھیا کاتنازعہ رام جنم بھومی۔ فسانہ ہے حقیقت نہیں“ کے زیر عنوان پر ہندوتوا طاقتوں کا کچاچٹھا کھول کررکھدیا ہے۔ یہ کتاب اُردو اور انگریزی میں دستیاب ہے۔مولانا محمد عبدالرحیم قریشی کی نماز جنازہ حیدرآباد کی مکہ مسجد میں بعد نماز عصر ادا کی گئی جن میں حیدرآباد کی تمام تنظیموں مذہبی‘ غیر مذہبی‘ سیاسی‘ غیر سیاسی نمائندوں کے علاوہ مسلمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تدفین عثمان شاہی کے قبرستان میں عمل میں آئی۔

No comments:

Post a Comment